’ہمیں 50ارب روپے ادا کرو‘نیب بڑی مشکل میں ، کس نے یہ رقم مانگ لی ؟ جان کر ہرپاکستانی کے ہوش اڑ جائیں گے

ومی احتساب بیورو مشکل میں پھنس گئی اور غیرملکی کمپنی 500 ملین ڈالرزکی نیب سے وصولی یقینی بنانے کے لیے پاکستان کی عدالت عظمیٰ سے رجوع کرلیا ، سپریم کورٹ نے غیر ملکی کمپنی کی پاناما جے آئی رپورٹ کا والیم 10 فراہم کرنے کی درخواست پر حکومت سے برطانوی مصالحتی فورم پر پیش کیا گیا مو¿قف طلب کرلیا تاہم اٹارنی جنرل انور منصور خان نے سپریم کورٹ سے برطانوی کمپنی کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا کردی۔یوزویب سائٹ پاکستان 24کے مطابق جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی عدالتی بنچ نے برطانوی کمپنی براڈ شیٹ کی درخواست کی سماعت کی۔ براڈ شیٹ کی جانب سے ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ پیش ہوئے اور عدالت کے پوچھنے پر اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ براڈ شیٹ کمپنی نے کسی مخصوص دستاویز کے حصول کی درخواست کرنے کی بجائے مکمل والیم فراہم کرنے کی استدعا کی ہے، پانامہ کیس میں بہت سے ایشوز تھے، سپریم کورٹ نے دس جولائی کے فیصلے میں جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم ٹین دینے سے منع کررکھاہے۔سپریم کورٹ نے مصالحتی فورم میں پیش کیا گیا پاکستانی حکومت کا موقف اور برطانوی مصالحتی فورم کے حکم کی نقل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔یاد رہے کہ براڈ شیٹ ایل ایل سی نامی عالمی فرم نے پاکستان کے قومی احتساب بیورو نیب کے خلاف برطانوی ثالث کے پاس مقدمہ کیا ہے جس میں نیب سے خدمات فراہمی کا معاوضہ وصول کرکے فرم کو دلانے کیلئے کہا ہے۔ المی فرم کا مو¿قف ہے کہ ان کے نیب کے ذمے 500 ملین ڈالرز بنتے ہیں جو ایک معاہدے کے تحت ہیں۔ اس معاہدے کے مطابق عالمی فرم نے بیرون ملک پاکستانیوں کی اکھٹی کی گئی دولت کی معلومات فراہم کرنا تھیں۔برطانوی ثالث نے نیب کے خلاف براڈ شیٹ کے حق میں فیصلہ دیا ہے تاہم رقم کے تعین کیلئے خدمات فراہمی کی تفصیل عدالت میں پیش کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ اسی وجہ سے براڈ شیٹ نے پاکستان کی سپریم کورٹ سے جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم دس فراہم کرنے کیلئے کہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here