نیسلے پانی معیار کے مطابق نہیں ہے، میں نے تو پینا ہی چھوڑ دیا ہے،چیف جسٹس پاکستان

پریم کورٹ لاہور رجسٹری میں صاف پانی کمپنی کافرانزک آڈٹ کرانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نیسلے پانی معیار کے مطابق نہیں ہے، میں نے تو پینا ہی چھوڑ دیا ہے،عدالت نے آڈیٹرجنرل پنجاب اورکمپنی کی سی ای اوکوطلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں صاف پانی کمپنی کافرانزک آڈٹ کرانے سے متعلق کیس کی سماعت کی،کمپنی کی طرف سے بیرسٹراعتزازاحسن عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس نے اعتزاز احسن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے عدالتی آڈیٹرپراعتراض اٹھایا ہے،اعتزاز احسن نے کہا کہ کمپنی ریکارڈکے 81 ڈبے سپریم کورٹ پہنچادیئے ہیں،ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ کمپنی کی بوتل پردرج اجزاپانی میں موجودنہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کمپنی کی سی ای او طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوئیں،بلائیں انہیں وہ آڈٹ کے دوران یہیں رہیں گی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایک ٹکا بھی سرکار کو نہیں دیتے ،ابھی آڈیٹر جنرل پنجاب کو بلا رہا ہوں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here