فیملی پلاننگ اور مانع حمل گولیوں کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟ آپ بھی جانئے

فیملی پلاننگ اور مانع حمل ادویات کے استعمال کے متعلق مختلف مکاتب فکر کے علماءکرام کی رائے بھی مختلف ہے۔ علماءکی اکثریت کے نزدیک فیملی پلاننگ کے مختلف طریقوں کے متعلق اسلام کا حکم بھی مختلف بیان کیا گیا ہے۔ ویب سائٹ پڑھ لو کے مطابق نیچرل فیملی پلاننگ کو علماءجائز قرار دیتے ہیں تاہم اس کے لیے میاں بیوی دونوں کا راضی ہونا لازم ہے۔ کنڈوم، ڈایافرام وغیرہ کے ذریعے حمل ہونے سے روکنا زیادہ تر علماءکرام کے نزدیک جائز عمل ہے کیونکہ یہ ماں کے پیٹ میں بچہ بننے سے پہلے وقوع پذیر ہوتا ہے۔ تاہم ایسے طریقے جو اسقاط حمل کے زمرے میں آتے ہوں علماءکی اکثریت اس کی مخالفت کرتی ہے اور انہیں ممنوع قرار دیتی ہے۔قرآن مجید میں فیملی پلاننگ کے متعلق کوئی واضح حکم موجود نہیں، صرف کم سنی میں اولادکو قتل کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے اور بعض علماءاسی آیت کریمہ کو اسقاط حمل سے ممانعت کا جواز قرار دیتے ہیں۔ سورة انعام کی آیت 151میں اللہ کریم فرماتے ہیں کہ ”اپنے بچوں کو مفلسی کے ڈر سے قتل مت کرو۔“ ایک اور جگہ سورة عشرہ کی آیت 37میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”انہیںہم ہی خوراک مہیا کرتے ہیں اور تمہیں بھی۔“رپورٹ کے مطابق حمل سے بچنے کا ایک طریقہ ’عزل‘ (ہم بستری کے آخر میں مرد کا نطفے کو باہر گرا دینا)بھی ہے جس کے متعلق احادیث موجود ہیں۔ایک حدیث حضرت جابرؓ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ ”نبی کریمﷺ کی زندگی میں ہم عزل کرتے تھے اور انہوں نے کبھی اس کی ممانعت نہیں کی۔“ (صحیح مسلم۔ کتاب 8۔ حدیث 3388)۔ ایک اور حدیث حضرت ابو سعید الخدریؓ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ ”ہم نے عزل کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر تم ایسا نہ کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ قیامت سے پہلے جس روح کو آنا ہے اسے آ کر ہی رہنا ہے۔“ (صحیح البخاری۔ کتاب 59۔ حدیث 459)۔ واللہ اعلم

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here