زیادتی کے نتیجے میں 13 سالہ لڑکی حاملہ ہوگئی، ملزمان کا آپس میں کیا رشتہ تھا اور کم عمر ماں اب کہاں ہے؟ ایسا انکشاف کہ ہرپاکستانی کا دل خون کے آنسو روئے گا

مناواں کے علاقہ میں مبینہ طور پر ڈاکٹر کے بیٹے اور نواسے کے ہاتھوں جنسی ہوس کا نشانہ بننے کے بعد ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کے منہ میں جانے والی 13 سالہ گھریلو ملازمہ اقراءکے قاتل تاحال پولیس گرفتار کرنے میں ناکام، روزنامہ خبریں کے مطابق 16 اگست 2018ءکو ایک پرائیویٹ ہسپتال کے وینٹی لیٹر پر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد جہان فانی سے کوچ کرنے والی 13 سالہ اقراءاپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گئی۔اقراءکی پھوپھو شہناز بی بی نے بتایا کہ اس کی بھابھی کافی سال پہلے وفات پاچکی ہے جس کے بعد اس کی بھتیجی اقراءپہلے کئی سال تک اس کے پاس رہی للیکن بعد میں اس کا والد محمد شہباز اسے اپنے ساتھ لے گیا اور ڈاکٹر خالد جاوید ربانی کے گھر بطور ملازمہ رکھوادیا اور خود بھی ساتھ رہنے لگا جسے بعد میں ڈاکٹر خالد جاوید ربانی نے گھر سے نکال دیا لیکن بچی کو رکھنے کے عوض ان سے میرے بھائی نے 2 لاکھ روپے بطور ایڈوانس لئے ہوئے تھے قرض کی ادائیگی کیلئے جس وجہ سے وہ لوگ بچی کو اپنے والد کے ساتھ بھیجنے کو کسی بھی صورت تیار نہ تھے۔ میرا بھائی اور میری والدہ اقراءسے ملنے کیلئے جاتے تھے جن کو کبھی تو ڈاکٹر خالد جاوید ربانی کی بیوی اور بہو ملنے کی اجازت دے دیتے تو کبھی دھکے دے کر نکال دیتے۔

ایک دفعہ جب میری والدہ اپنی پوتی کو ملنے کیلئے گئیں تو اس نے دیکھا کہ اقراءبیمار تھی جس پر جب اقراءسے انہوں نے پوچھا تو اس نے رو رو کر بتایا کہ ڈاکٹر خالد جاوید ربانی کا بیٹا رضوان اور اس کا نواسہ رامیک مجھے زیادتی کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ یہ سب جب میری والدہ نے ہمیں آکر بتایا تو ہم ڈاکٹر خالد جاوید ربانی کے گھر گئے لیکن اس کی بیوی اور بہو نے یہ کہہ کر ہمیں ٹال دیا کہ اس کی طبیعت بہت خراب تھی جس وجہ سے اسے سرجی میڈ ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ ہم جیسے ہی ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے خالد جاوید ربانی کے کہنے پر ہمیں اقراءسے ملنے نہیں دیا اور ہمیں یہی کہتے رہے کہ اس کے گردے خراب ہوچکے ہیں جس کا علاج ہم کررہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اسے پڑھے لکھے طریقے سے قتل کرنے کی کوشش کررہے تھے جس میں وہ 5 دن بعد جاکر کامیاب ہوئے اور اقراءکی لاش کو ہمارے حوالے کردیا جس پر ہم نے جب احتجاج کیا تو پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو قبضہ میں لیتے ہوئے پوسٹمارٹم کیلئے مردہ خانے منتقل کیا جہاں سے ملنے والی رپورٹ میں اقراءسے زیادتی ثابت ہوگئی لیکن زیادتی کرنے والے کے تعین کا کہہ کر نمونے فرانزک لیب بھجوادئیے ہیں۔

شہناز بی بی نے روتے ہوئے کہا کہ آج ہماری بچی کی موت کو دو ماہ کا عرصہ ہونے کو ہے لیکن نہ تو ابھی تک فرانزک لیب کی رپورٹ سامنے آئی ہے اور نہ ہی انویسٹی گیشن پولیس ہی کچھ کررہی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر اقراءکسی امیر یا بااثر شخصیت کی بیٹی ہوتی تو ملزمان اب تک سلاخوں کے پیچھے ہوتے لیکن ہم پتہ نہیں دو وقت کی روٹی کیسے پوری کرتے ہیں لہٰذا ہماری بچی بچی تھوڑی ہے، وہ تو ان امیروں کیلئے کھلونا تھا جس سے کھیلا اور بعد میں اسے توڑ دیا۔ شہناز بی بی نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ اقراءکو اس ملک و قوم کی بیٹی سمجھتے ہیں تو برائے مہربانی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے جلد از جلد انصاف فراہم کریں تاکہ وطن عزیز میں امیر غریب کیلئے حصول انصاف کا عمل ایک جیسا ثابت ہوسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here